18 نومبر 2012 - 20:30

جرمنی کی حکومت نے ترکی اور شام کے سرحدوں پر تعیناتی کے لئے ایک سوستر فوجیوں پر مشتمل ایک خصوصی دستہ ترکی روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جرمن اخبار زود ودیچہ کے مطابق جرمن فوج کا یہ دستہ شام اور ترکی کے درمیان سرحدی علاقے میں پیٹریاٹ میزائل نصب کرنے کے لئے ترکی پہنچے گا۔

ابنا: ترکی حکومت نے شام کے ساتھ سرحدی کشیدگي سے پہلے نیٹو اور اپنے مغربی اتحادیوں سے پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی اور انہیں ترکی اور شام کی سرحدوں پر نصب کرنے کا مطالبہ کیا تھا ترکی نے امریکہ سے بھی اسی طرح کی خواہش کا اظہار کیا تھا امریکی وزیر جنگ لیون پینٹانے اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر کرنے کے لئے پیٹریاٹ میزائیلوں کامطالبہ کیا تھا ۔ امریکی وزير جنگ کے بقول امریکہ نے ترکی کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے ۔ اس سے پہلے یورپ میں امریکی فوج کے کمانڈر مارک پرٹیلینگ نے بھی کہا تھا کہ شام کے حالات کو کنٹرول کرنےاور ان پر نظر رکھنے کے لئے امریکی فوجی کا ایک خوصی دستہ ترکی میں تعینات کیا جائیگا ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی نے شام کے موجودہ حالات اور بحران پر قابو پانے کے لئے پیٹریاٹ میزائیلوں کا مطالبہ کیا ہے ۔دوحہ کانفرنس کے بعد اور بشار اسد کے مخالفین کی نئی صف بندی کے بعد ترکی اور اسکے یورپی اتحادی یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہیں اس اجلاس کے بعد جو سیاسی کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں فوجی اور عسکری میدان میں بھی اسی طرح کی کامیابیاں ملنی چاہیں ۔ترکی اور  شام کی سرحدوں پر پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب اسی سلسلے کی کڑی ہے اور ممکن ہے اسی طرح کے اقدامات نیٹو فورسز کے شام کے مسائل میں مداخلت کا مذید سبب بنیں۔علاقائی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور حماس کے خلاف صیہونی فوج کی کاروائی کے بعد مغربی طاقتوں نے اس علاقے پر اپنی توجہ میں نمایاں اضافہ کردیا ہےاور وہ اس بحران میں ترکی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہتی ہیں۔دوسری طرف ترکی کی کوشش ہے کہ فلسطینیوں گروہوں میں اسکا جو اثر و نفوذ ہے وہ اسے استعمال کرے اور خطے میں اسرائیل کے حوالے سے اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے ۔ایسی صورتحال میں ترکی کو اس بات کی امید ہے کہ وہ یورپ کی توجہات کو اپنی طرف مبذول کرنے میں کامیاب ہوجائیگا ۔بہرحال ترکی کے یہ اقدامات خطے میں امریکہ اور  یورپ کو عسکری دعوت دینے کے مترادف ہے اور اسکے علاقائی مسائل پر براہ راست اثرات مرتب ہونگے سابقہ تجربات بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ بیرونی طاقتیں خطے کے مفادات پر اپنے ذاتی اور ملکی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں ۔......../110